بنیادی مسائل کے جوابات — Page 300
چاہیئے۔پھر یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ بیان کیا تو حضور الی یکم نے فرمایا تمہیں کس طرح علم ہوا کہ سورۃ فاتحہ دم کرنے والی سورۃ ہے۔تم نے بالکل ٹھیک کیا ہے، ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کر لو اور میرا بھی ایک حصہ مقرر کرو۔اور یہ فرما کر حضور ال وام مسکرا دیے۔(بخاري كتاب الطب بَاب النَّفْثِ فِي الرُّقْيَةِ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور الم أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشَّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ ( یعنی اے لوگوں کے رب تو اس تکلیف کو دور فرما دے، شفا تیرے ہی ہاتھ میں ہے، تیرے سوا کوئی اس تکلیف کو دُور نہیں کر سکتا) کی دعا پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔(صحیح مسلم کتاب السلام بَابِ اسْتِحْبَابِ رُقْيَةِ الْمَرِيضِ ) اسی طرح احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ حضور ام دم کرتے وقت پھونک بھی مارا کرتے تھے۔(سنن ابن ماجه كتاب الطب بَاب النَّفْتِ فِي الرُّقْيَةِ) یہی طریق ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے صحابہ کا بھی ملتا حضرت مفتی محمد صادق صاحب بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ یہ عاجز رائم لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا اور جماعت لاہور کے چند اور اصحاب بھی ساتھ تھے۔صوفی احمد دین صاحب مرحوم نے مجھ سے خواہش کی کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں سفارش کر کے صوفی صاحب کے سینہ پر دم کر ا دوں۔چنانچہ حضرت صاحب کوچہ بندی میں سے اندرون خانہ جا رہے تھے جبکہ میں نے آگے بڑھ کر صوفی صاحب کو پیش کیا اور ان کی درخواست عرض کی۔حضور نے کچھ پڑھ کر صوفی صاحب کے سینے پر دم کر دیا۔(پھونک مارا) اور پھر اندر تشریف لے گئے۔(ذکر حبیب مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب، صفحہ 137، مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس ربوہ) اسی طرح حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی بیان فرماتے ہیں: ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سرساوہ سے چل کر قادیان شریف ہے۔چنانچہ 300