بنیادی مسائل کے جوابات — Page 299
دَم کرنا سوال: میر پور آزاد کشمیر سے ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں لکھا کہ لاعلاج مریضوں پر پڑھ کر دم کرنے والی ایک دعا يَا مَنْ اِسْمُهُ دَوَاءٌ وَ ذِكْرُهُ شفاء ہے اس دعا کا حوالہ اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 09 اپریل 2022ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: میرے علم میں تو ایسی کوئی دعا نہیں ہے جو آپ نے اپنے خط میں تحریر کی ہے۔البتہ احادیث میں یہ ذکر ملتا ہے کہ حضور ایلم خود بھی اور صحابہ رسول الله الالم سورۃ فاتحہ ، معوذتین (یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) اور بعض اور دعاؤں کے ذریعہ بخار ، مختلف بیماریوں اور سانپ اور بچھو وغیرہ کے کاٹنے پر دم کر لیا کرتے تھے۔چنانچہ احادیث میں یہ واقعہ آتا ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت کسی سفر پر روانہ ہوئی اور یہ لوگ ایک قبیلہ کے پاس آکر ٹھہرے اور ان سے کچھ کھانے کے لئے طلب کیا لیکن قبیلہ والوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کر دیا۔پھر اس قبیلہ کے سردار کو سانپ یا بچھونے کاٹ لیا اور قبیلہ والوں نے اس کے علاج کی پوری کوشش کی لیکن سردار کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔کسی نے مشورہ دیا کہ جو باہر سے لوگ ہمارے پاس آکر ٹھہرے ہیں ان سے بھی پوچھا جائے، شاید ان میں سے کسی کے پاس کوئی دوا ہو۔صحابہ سے پوچھنے پر ایک صحابی نے کہا کہ ہاں میں ایک دم جانتا ہوں لیکن چونکہ تم لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی، اس لئے اب میں تمہارے سر دار پر دم نہیں کروں گا۔چنانچہ اس قبیلہ والوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ صحابہ کو دینے کا وعدہ کیا، جس پر اس صحابی نے سورۃ فاتحہ پڑھ کر قبیلہ کے سردار پر دم کیا تو وہ سورۃ الفاتحہ کی برکت سے ٹھیک ہو کر اس طرح چلنے پھرنے لگا کہ گویا اس کو کسی چیز نے کاٹا ہی نہ ہو۔صحابہ نے قبیلہ والوں سے بکریاں لے لیں۔ایک شخص نے کہا کہ ان بکریوں کو آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، لیکن جس صحابی نے دم کیا تھا انہوں نے مشورہ دیا کہ جب تک ہم حضور لم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بیان نہ کر لیں اور معلوم نہ کر لیں کہ حضور ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، اس وقت تک ہمیں ایسا نہیں کرنا - 299