بنیادی مسائل کے جوابات — Page 260
حیض ( ایام مخصوصہ) سوال: عورتوں کے مخصوص ایام میں قرآن کریم کے تحریری نسخہ کو پکڑنے اور پڑھنے نیز کمپیوٹر یا آئی پیڈ وغیرہ سے تلاوت قرآن کرنے کے بارہ میں ایک شخص نے مختلف علماء و فقہاء کے حوالہ جات پر مبنی ایک تحقیق حضور انور کی خدمت اقدس میں پیش کر کے اس مسئلہ کے بارہ میں حضورانور سے رہنمائی چاہی۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 05 اکتوبر 2018ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: اس مسئلہ پر علماء و فقہاء میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بزرگان دین نے بھی اپنی قرآن فہمی کے مطابق اس بارہ میں مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔قرآن کریم، احادیث نبویہ ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں میرا اس بارہ میں موقف ہے کہ ایام حیض میں عورت کو قرآن کریم کا جو حصہ زبانی یاد ہو ، وہ اسے ایام حیض میں ذکر و اذکار کے طور پر دل میں دہراسکتی ہے۔نیز بوقت ضرورت کسی صاف کپڑے میں قرآن کریم کو پکڑ بھی سکتی ہے اور کسی کو حوالہ وغیرہ بتانے کے لئے یا بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کے لئے قرآن کریم کا کوئی حصہ پڑھ بھی سکتی ہے لیکن باقاعدہ تلاوت نہیں کر سکتی۔اسی طرح ان ایام میں عورت کو کمپیوٹر وغیرہ پر جس میں اسے بظاہر قرآن کریم پکڑنا نہیں پڑتا با قاعدہ تلاوت کی تو اجازت نہیں لیکن کسی ضرورت مثلاً حوالہ تلاش کرنے کے لئے یا کسی کو کوئی حوالہ دکھانے کے لئے کمپیوٹر وغیرہ پر قرآن کریم سے استفادہ کر سکتی ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔(قسط نمبر 1، الفضل انٹر نیشنل 27 اکتوبر تا02 نومبر 2020ء صفحہ 29) 260