بنیادی مسائل کے جوابات — Page 236
سوال: ایک اور مرتبی صاحب نے اس ملاقات میں حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا حضور کو اسیر راہِ مولیٰ ہونے کا موقعہ ملا ہے، اس اسیری کے متعلق اگر حضور کچھ فرمائیں تو نوازش ہو گی ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کے جواب میں فرمایا: جواب: کیا فرماؤں ؟ مجھے تو اسیر راہِ مولیٰ کے طور پر پتہ ہی نہیں لگا کہ میری اسیری کے دن کس طرح گزر گئے ؟ اللہ کے فضلوں کو ہی دیکھتا رہا۔گرمی کے دن تھے، اللہ تعالی گرمی کو ٹھنڈ میں بدل دیتا تھا۔بڑے آرام سے جیل میں بیٹھے رہتے تھے۔اور سلاخوں کے پیچھے رہتے تھے، کوئی فکر و فاقہ نہیں تھا۔دل میں یہ خیال تھا کہ جو دفعہ مجھ پر لگی ہوئی ہے اس کی سزا یا عمر قید ہے یا پھانسی ہے، ان دونوں میں سے کچھ تو مجھے ملنا ہے۔اس لئے میں نے کہا کہ اللہ تعالی سے ہی مانگو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرو۔باقی جماعت کی خاطر اگر سزاملنی ہے تو یہ تو بڑی برکت کی بات ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اللہ تعالیٰ نے دسویں، گیارھویں، بارھویں دن مجھے جیل سے باہر نکال دیا۔تو اس سے زیادہ میں کیا کہوں۔میں نے کوئی بڑا تیر مارا؟ میں نے تو وہاں کچھ بھی نہیں کیا۔(قسط نمبر 7، الفضل انٹر نیشنل 22 جنوری 2021ء صفحہ 12) 236