بنیادی مسائل کے جوابات — Page 217
کی کئی ایسی حدیثیں ہیں جن کا مضمون اس مذکورہ بالا حدیث کے مضمون کی طرح مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کفار اور منافقین پر بھی اطلاق پاتا ہے۔جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک سے مروی یہ حدیث کہ حضور الم نے فرمایا: لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّي يُحِبُّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (صحيح بخاري كتاب الايمان یعنی تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں بن سکتا، جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہی نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہے۔اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ : أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَي رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهُوَ يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ فَإِنَّ الْحَيَاءَ مِنْ الْإِيْمَانِ (بخاري كتاب الايمان) یعنی حضور ایم ایک انصاری صحابی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے بارہ میں نصیحت کر رہا تھا، تو رسول اللہ العلیم نے فرمایا اسے (حیا کے بارہ میں نصیحت کرنا) چھوڑ دو کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند کرنا جو انسان اپنے لئے پسند کرتا ہے یا حیا کی صفت کو اپنانا صرف مومنوں کے لئے ہے اور کفار اور منافقین ایسا نہیں کر سکتے ؟ یعنی اگر کوئی کا فریا منافق اپنے بھائی کے لئے وہی کچھ پسند کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے یا کوئی کا فریا منافق حیا کرنے والا ہو تو کیا اس بناء پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کیونکہ ان باتوں میں کافر اور منافق بھی شامل ہو سکتے ہیں، اس لئے یہ احادیث نعوذ باللہ حضور ﷺ کے اقوال نہیں ہو سکتے۔پھر قرآن و حدیث میں عہدوں کو پورا کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے اور اسے ایک اچھی صفت گردانا گیا ہے۔اب اگر کوئی کافر یا منافق بھی اپنے عہد کو پورا کر دے تو کیا ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ عہدوں کو پورا کرنے کی تاکید قرآنی حکم نہیں ہے یا حضور الم کا قول نہیں ہے کیونکہ کفار اور منافقین بھی اس پر عمل کر رہے ہیں۔217