بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 216 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 216

حُبُّ الْوَطْنِ سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ حدیث رسول اللهم حُبُّ الوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ کے بارہ میں بعض غیر احمدی علماء بحث کرتے ہیں لہ یہ حضور الم کا قول نہیں اور اس کا حوالہ مانگتے ہیں۔میں نے حوالہ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے نہیں ملا۔ہمیں ان غیر احمدی علماء کو اس کا کیا جواب دینا چاہیئے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 اپریل 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ارشاد فرمایا: جواب: حضرت اقدس محمد مصطفی ایم کی یہ حدیث مبارکہ مختلف کتب میں روایت ہوئی ہے۔مثلاً علامہ ملا علی قاری نے اپنی تصنیف الموضوعات الكبري میں، حافظ شمس الدین ابی الخیر محمد بن عبد الرحمن السخاوی نے اپنی کتاب المقاصد الحسنة في بيان كثيرٍ من الاحاديث المُشتِهِرِةِ عَلَي الْأَلْسِنَةِ میں اور علامہ جلال الدین سیوطی نے اپنی تاليف الدرر المنتثرة في الأحاديث المشتهرة میں اسے درج کیا ہے۔حضور الم کی اس حدیث کے بارہ میں بعض علماء سلف نے فضول بحثیں کر کے اور عجیب و غریب دلائل دے کر اس کے قول رسول الی یتیم ہونے سے انکار کیا ہے اور اسے بعض سلف کا کلام قرار دیا ہے۔جبکہ علماء کی یہ تمام بخشیں اور دلائل دوسری احادیث کی روشنی میں اور قرآن کریم میں بیان فرمودہ تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے قابل رڈ ٹھہرتی ہیں۔لہذا علماء کی ان دلیلیوں کی بناء پر اس حدیث کے حضور الم کا قول ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔علماء کی دلیل یہ ہے کہ وطن کی محبت اور ایمان کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔کیونکہ وطن سے محبت تو کفار اور منافقین بھی کرتے تھے ، حالانکہ ان کا ایمان سے ذرہ برابر بھی تعلق نہیں تھا۔پھر وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ علماء سلف کی یہ دلیل اس لئے قابل قبول نہیں کہ احادیث کی مستند کتب میں مروی حضور لیلی لیلی 216