بنیادی مسائل کے جوابات — Page 189
کے قریب پہنچے گا تو جنت والوں کی آوازیں سنے گا تو وہ پھر عرض کرے گا اے میرے ربّ مجھے اس میں داخل کر دے۔اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے ابن آدم ! تیرے سوال کو کون سی چیز روک سکتی ہے کیا تو اس پر راضی ہے کہ تجھے دنیا اور اس کے ساتھ دنیا کے برابر اور دے دیا جائے ؟ وہ شخص کہے گا اے میرے رب کیا تو مجھ سے مذاق کر رہا ہے جبکہ تو تو رب العالمین ہے؟ اس پر اس حدیث کے راوی حضرت عبد اللہ بن مسعود ہنس پڑے اور لوگوں سے کہا کہ تم مجھے سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں کیوں ہنسا ہوں۔لوگوں نے کہا کہ آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ حضور اللی بھی اسی طرح ہنسے تھے اور صحابہ نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ آپ کسی وجہ سے ہنسے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ رب العالمین کے ہنسنے کی وجہ سے۔جب وہ آدمی کہے گا کہ تو رب العالمین ہونے کے باوجود مجھ سے مذاق کر رہے ہو تو اللہ فرمائے گا کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کرتا مگر جو چاہوں کرنے پر قادر ہوں۔(صحیح مسلم کتاب الايمان باب آخرِ (قسط نمبر 40، الفضل انٹر نیشنل 23 ستمبر 2022ء صفحہ 11) أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا) 189