بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 166

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيَّ عَدُوًّا شَيَاطِيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوْحِي بَعْضُهُمْ إِلَي بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا یعنی ہم نے ہر نبی کے دشمن بنائے ہیں شیطان آدمیوں میں سے بھی اور جنوں میں سے بھی جو لوگوں کو مخالفت پر اکساتے اور انہیں نبی اور اس کی جماعت کے خلاف بر انگیختہ کرتے رہتے ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسان بھی شیطان ہوتے ہیں۔پس اگر شیاطین الانس ہو سکتے ہیں تو جن الانس کیوں نہیں ہو سکتے۔یعنی جس طرح انسانوں میں سے شیطان کہلانے والے پیدا ہو سکتے ہیں اسی طرح ان میں سے جن کہلانے والے بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔پس قرآن سے ہی پتہ لگ گیا کہ صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے قبضہ میں ہی جن نہیں تھے بلکہ حضرت موسی اور رسول کریم الم پر بھی جن ایمان لائے تھے۔“ (فضائل القرآن نمبر 6 صفحہ 388،387) اسی طرح تفسیر کبیر میں جنوں کے بارہ میں سیر حاصل بحث فرمانے کے بعد اس بحث کا خلاصہ تحریر فرماتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم میں جن کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔(1) جن وہ تمام مخفی مخلوق جو غیر مرئی شیطان کی قسم سے ہے یہ مخلوق اسی طرح بدی کی تحریک کرتی ہے جس طرح ملائکہ نیک تحریکات کرتے ہیں۔ہاں یہ فرق ہے کہ ملائکہ کی تحریک وسیع ہوتی ہے اور ان کی تحریک محدود ہوتی ہے۔یعنی ان کو زور انہی پر حاصل ہوتا ہے جو خود اپنی مرضی سے بد خیالات کی طرف جھک جائیں۔انہیں شیاطین بھی کہتے ہیں۔(2) جن سے مراد قرآن کریم میں CaveMen بھی ہے۔یعنی انسان کے قابل الہام ہونے سے پہلے جو بشر زیر زمین رہا کرتے تھے اور کسی نظام کے پابند نہ تھے۔ہاں آئندہ کے لئے قرآن کریم نے یہ اصطلاح 166