بنیادی مسائل کے جوابات — Page 165
فاقہ کرتا رہتا ہے اور اس کو روٹی بھی لا کر نہیں دیتے۔اگر محمد رسول اللہ م پر ایمان لانا ان کے لئے ضروری نہ ہوتا تو شبہ ہو تا کہ وہ انسان کو ضرر پہنچا سکتے ہیں یا نہیں۔لیکن اب یقینی ہے کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔باقی رہا یہ کہ عورتوں کے سر پر جن چڑھتے ہیں یہ سب بیماریاں ہیں یا وہم ہیں یا سائنس کے نتائج ہوتے ہیں۔جیسے فاسفورس رات کو چمکتی ہے یہ اکثر قبرستانوں میں دکھلائی دیتی ہے۔کیونکہ ہڈیوں سے فاسفورس نکلتی ہے اور وہ چمکتی ہے اور عوام اس کو جنوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔اخبار ال الفضل قادیان دالامان نمبر 82 جلد 8۔مورخہ 2 مئی 1921ء صفحہ 7) اسی طرح فضائل القرآن کے نام پر طبع ہونے والے اپنے ایک خطاب میں حضور جنوں کے بارہ میں ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں: بعض لوگ کہتے ہیں کہ جن غیر از انسان وجود ہیں جو رسول کریم م ، حضرت موسیٰ اور حضرت سلیمان پر ایمان لائے تھے۔مگر دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان معنوں کو قرآن کریم تسلیم کرتا ہے۔اگر یہ ایک استعارہ ہے تو یقیناً قرآن کریم نے اس کو اپنی کسی دوسری آیت میں حل کیا ہو گا اور استعارہ تسلیم نہ کرنے کی صورت میں قرآن کریم کی دو آیتیں باہم ٹکرا جائیں گی اور اس طرح قرآن میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔پس ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس کو استعارہ تسلیم نہ کرنے سے قرآن میں اختلاف پیدا ہوتا ہے یا استعارہ تسلیم کر کے۔جو لوگ استعارہ نہیں سمجھتے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایسا ہی لفظ ہے جیسے شیطان کا لفظ آتا ہے۔جس طرح شیطان سے مراد ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے علیحدہ ہے اسی طرح جن بھی ایک ایسی مخلوق ہے جو انسانوں سے الگ ہے۔حالانکہ وَإِذَا خَلَوْا إِلَي شَيَاطِينِهِمْ میں مفسرین بالا تفاق لکھتے ہیں کہ اس جگہ شیاطین سے سے مراد یہودی اور ان کے بڑے بڑے سردار ہیں۔پس اگر انسان شیطان بن سکتا ہے تو انسان جن کیوں نہیں بن سکتا؟ 165