بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 147

کہ اس کی نمائش ہو اور اپنی مخالف جنس کا ناجائز طور پر اپنی طرف میلان پیدا کیا جائے۔اسی لئے لوگ عموماً ٹیٹو جسم کے ایسے حصوں پر بنواتے ہیں جنہیں وہ عام لوگوں میں کھلا رکھ کر اس کی نمائش کر سکیں۔لیکن اگر کوئی ٹیٹو جسم کے ستر والے حصہ پر بنواتا ہے تو اوّل تو اس کے بنواتے وقت وہ بے پردگی جیسی بے حیائی کا ارتکاب کرتا ہے جو خلاف تعلیم اسلام ہے۔نیز اس کے پیچھے بھی یہی سوچ ہوتی ہے کہ تابُرائی اور افعال بد کے ارتکاب کے وقت اپنی مخالف جنس کے سامنے ان پوشیدہ اعضاء پر بنے ٹیٹو کی نمائش کی جا سکے۔یہ تمام طریق ہی اسلامی تعلیمات کے منافی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہیں۔علاوہ ازیں ٹیٹو کے کئی ظاہری اور میڈیکل نقصانات بھی ہیں۔چنانچہ جسم کے جن حصوں پر ٹیٹو بنوایا جاتا ہے، اس جگہ جلد کے نیچے پسینہ لانے والے گلینڈ بُری طرح متاثر ہوتے ہیں اور ٹیٹو بنوانے کے بعد جسم کے ان حصوں پر پسینہ آنا کم ہو جاتا ہے، جو طبی لحاظ سے نقصان دہ ہے۔اسی طرح بعض اوقات ٹیٹو چونکہ مستقل طور پر جسم کا حصہ بن جاتا ہے، اس لئے جسم کے بڑھنے یا سکٹرنے کے ساتھ ٹیٹو کی شکل میں بھی تبدیلی آجاتی ہے، جس سے ٹیوبظاہر خوبصورت لگنے کی بجائے بد صورت لگنے لگتا ہے اور کئی لوگ پھر اسے وبال جان سمجھنے لگتے ہیں لیکن اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔لہذا ان وجوہ کی بنا پر بھی ٹیٹو بنوانا ایک لغو کام ہے۔پس ایک مومن مرد اور عورت کے لئے اپنے جسم پر ٹیٹو بنوانا جائز نہیں۔البتہ اگر کسی شخص نے احمدی ہونے سے پہلے اپنے جسم پر ٹیٹو بنوایا ہے اور اب اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام کی سچی راہ دکھاتے ہوئے احمدیت قبول کرنے کی توفیق بخشی ہے تو اس کا یہ فعل إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ (یعنی سوائے اس کے جو پہلے گزر چکا) کے زمرہ میں آئے گا۔نیز پہلے سے بنے ہوئے ٹیٹو سے اس کے وضو اور غسل جنابت کی تعمیل میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔جس طرح خواتین کے نیل پالش لگانے سے ان کے وضو پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نیل پالش لگے ہونے کے باوجود ان کا وضو ہو جاتا ہے اسی طرح اس شخص کا بھی ٹیٹو کے ساتھ وضو اور غسل جنابت ہو جائے گا۔(قسط نمبر 35، الفضل انٹر نیشنل 03 جون 2022ء صفحہ 10) 147