بنیادی مسائل کے جوابات — Page 59
إنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھنا سوال: اسی ملاقات میں ایک اور طفل نے عرض کیا کہ جب کوئی مسلمان فوت ہوتا ہے تو ہم إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتے ہیں۔اگر کوئی غیر مسلم فوت ہو تو کیا ہم اس کے لئے بھی یہ پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کے جواب میں فرمایا: جواب: اگر ہمیں اس کا افسوس ہے۔یا وہ تعلق والا ہے تو ظاہر ہے اسی طرح پڑھنا ہے کہ ہم سارے اللہ کے پاس ہی جانے والے ہیں۔جانا تو سب نے اللہ کے حضور ہی ہے۔آگے اللہ نے ان سے کیسا سلوک کرنا ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے۔ہو سکتا ہے کوئی غیر مسلم بھی ہو لیکن اس کی کوئی نیکی اللہ کو پسند آجائے تو اس کو اللہ تعالیٰ بخشنے کا سامان کر دے۔یا جو بھی اس سے سلوک کرنا ہے وہ کرے۔إِنَّا لِلہ اس لئے پڑھا جاتا ہے کہ اگر کوئی بھی نقصان ہو تو اس کا مداوا کرنا، اس کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔تو ہم یہ پڑھتے ہیں کہ ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف ہر نقصان پہ اور ہر معاملہ میں رجوع کرتے ہیں۔اگر ہمارا کوئی دوست ہے یا ہمارا کوئی ایسا ہمدرد ہے جس نے ہمارے ساتھ نیکی کی ہو اس پر اگر ہم یہ دعا دے دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی اللہ کے پاس گیا اور ہم نے بھی اللہ کے پاس جانا ہے۔اس کی وجہ سے ہمیں جو نقصان ہوا وہ اللہ تعالیٰ پورا کرے اور اس کی کسی بھی حرکت یا بات پہ کوئی نیک سلوک ہو سکتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ اس سے کر دے۔اصل چیز تو یہ ہے کہ إِنَّا لِلہ اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ ہم اللہ سے یہ مانگتے ہیں کہ ہمارا نقصان پورا ہو جائے۔اس کے مرنے سے ہمیں جو افسوس ہے، ہمارا صدمہ ہے وہ اللہ تعالیٰ دُور فرمائے کیونکہ ہم اللہ کے لئے ہیں اور ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔کوئی بھی نقصان ہو۔جان کا نقصان ہو یا مال کا نقصان ہو یا کسی بھی قسم کا نقصان ہو۔کسی کے مرنے پہ ضروری نہیں ہے۔کسی کو کوئی مالی نقصان بھی ہو۔تمہارے پیسے ضائع ہو جائیں تب بھی تم إِنَّا لِلہ پڑھتے ہو۔اس لئے کہ ہم نے ہر معاملہ میں اللہ کی طرف ہی جانا ہے۔کسی پر انحصار نہیں کرنا۔تو اس لئے إِنَّا لِلہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔جس کو تم جانتے ہو اور ہ تمہارا قریبی ہے اور اس سے تمہیں فائدہ بھی پہنچتا ہے اس کے فوت ہونے سے تم اگر إِنَّا لِلہ وہ 59