بنیادی مسائل کے جوابات — Page 49
سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ۔۔۔نیز یہ کہ خدا تعالیٰ کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں کہ کائنات کا بنانے والا کوئی تو ہو گا کیونکہ کوئی چیز خود سے نہیں بن سکتی۔پھر سوال پیدا ہو تا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو کس نے بنایا؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 24 دسمبر 2021ء میں ان سوالات کے درج ذیل جواب عطا فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز کو کسی نہ کسی ذات یا ہستی نے بنایا ہے اور سائنس بھی اس بات کو مانتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز خود بخود نہیں ہے۔اس اصول کو دیکھ لیا جائے تو بات سمجھ آ جائے گی۔پس اس طرح اوپر چلتے چلتے کہ اُس کو کس نے بنایا اور اُس کو کس نے بنایا جہاں جا کر بات رُکے گی وہی خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔سائنس اسے نیچر کہتی ہے اور ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی بتائی ہوئی تعلیمات کے مطابق اُس ہستی کو خدا تعالیٰ کی ذات مانتے ہیں۔باقی خدا تعالیٰ کی لا محدود ہستی انسانی محدود علم سے بہت بالا اور برتر ہے اس کے متعلق ہمارا ایمان وہی ہے جو قرآن کریم نے ہمیں عطا فرمایا ہے کہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ - (سورة الاخلاص) یعنی تو کہہ دے کہ اللہ اپنی ذات میں اکیلا ہے۔اللہ وہ ہستی ہے جس کے سب محتاج ہیں ( اور وہ کسی کا محتاج نہیں)۔نہ اُس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے۔اور اُس کا کبھی کوئی ہمسر نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا اپنی ذات اور صفات اور جلال میں ایک ہے۔کوئی اس کا شریک نہیں۔سب اس کے حاجت مند ہیں۔ذرہ ذرہ اُس سے زندگی پاتا ہے۔وہ گل چیزوں کے لئے مبدء فیض ہے اور آپ کسی سے فیضیاب نہیں۔وہ نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کسی کا باپ اور کیونکر ہو کہ اس کا کوئی ہم ذات نہیں۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 417) 49