بُخارِ دل — Page 79
79 میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا اسی عہد پر اپنے قائم رہوں گا گروں گا پڑوں گا جیوں گا مروں گا مگر قول دے کر نہ ہر گز پھروں گا میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا ہے احوالِ دُنیائے فانی محبت زبانی، عداوت نہانی ہے ہر عیش اور زندگانی خوشی اس کی کوئی نہیں جاودانی مكدر میں دنیا دیں کو مقدم کروں گا بُرائی، نفاق اور جھوٹی ستائش غلاظت نَجاست کی زریں نُمائش دلوں میں جگن اور سینوں میں کاوش جہنم ہے دنیا کی یارو رہائش میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا اگر دین کو اپنے کر لوں میں قائم تو فضلوں کا وارث رہوں گا میں دائم نہ گزرے گی یہ عمر مِثلِ بہائم نہ مالک کی خفگی نہ کچھ کوم لائم میں دنیا دیں کو مقدم کروں گا یہ اہلِ جہاں، خاص ہوں یا کہ عامی زن و مال کی کر رہے ہیں غلامی حکومت کے عزت کے سب ہیں سلامی نہیں دین بے کس کا کوئی بھی حامی میں دنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا خدا کا ادب اور خلقت پر شفقت خلوص و نصیحت نبی کی محبت