بُخارِ دل — Page 71
71 ہر اک کی کروں خدمت اور خیر خواہی جو دیکھے وہ خوش ہو کے مجھ کو دعا دے بڑوں کا ادب اور چھوٹوں شفقت سراسر محبت کی پتلی بنا دے بنوں نیک اور دوسروں کو بناؤں مجھے دین کا علم اتنا سیکھا خوشی تیری ہو جائے مقصود میرا دے کچھ ایسی لگن دن میں اپنی لگادے جو بہنیں ہیں میری و یا ہیں سہیلی یہی رنگ نیکی کا سب پر چڑھا دے عنا دے ، سخا دے ، حیا دے ، وفا دے بدی دے، گھی دے ، لیقا دے، رضا دے میرا نام ابا نے رکھا خدایا ہے مریم تو صدیقہ مجھ کو بنا دے (الفضل 6 جنوری 1925ء)