بُخارِ دل — Page 69
69 رستگاری کا سبب آپ ہیں قوموں کیلئے ہر مصیبت کی تمہیں لوگ دوا کہتے ہیں آپ وہ ہیں کہ جنہیں فخر رسل کا ہے خطاب دیکھنے والے جب ہی صلِ علیٰ کہتے ہیں استجابت کے کرشمے ہوئے مشہور جہاں آپ کے دَر کو دَر فیض وعطا کہتے ہیں کوئی آتا ہے یہاں سائلِ دُنیا بن کر مطلب اپنا وہ زر و مال و غنا کہتے ہیں رزق اور عزت و اولاد کے گاہک ہیں کئی بخشوانے کو کوئی اپنی خطا کہتے ہیں کوئی دربار میں آتا ہے کہ مل جائیں علوم کوئی اپنے کو طلبگار شیفا کہتے ہیں نیک بنے کیلئے سینکڑوں در پر ہیں پڑے خود کو مشتاق رہ زُہد و ھی کہتے ہیں طالب بنت فردوس ہیں اکثر عاقل دار فانی کو فقط ایک سر “ کہتے ہیں میں بھی سائل ہوں طلبگار ہوں اک مطلب کا کوئے احمد کا مجھے لوگ گدا کہتے ہیں میری اک عرض ہے اور عرض بھی مشکل ہے بہت دیکھئے آپ بھی سُن کر اسے کیا کہتے ہیں جس کی فرقت میں تڑپتا ہوں، وہ کچھ رحم کرے یعنی مل جائے مجھے جس کو خدا کہتے ہیں یچکس نیست که در کوئے تو اش کارے نیست ہر کس ایں جا بامید ہو سے می آید (الفضل 25 /نومبر 1924ء)