بُخارِ دل

by Other Authors

Page 68 of 305

بُخارِ دل — Page 68

68 عظمت سلسلہ قائم ہوئی اس کے دم سے خوب پہنچانا اُسے حق کا پیام آتا ہے آج سُورج نکل آیا یہ کدھر مغرب سے ہم سمجھتے تھے کہ مشرق سے مدام آتا ہے مودہ اے دل کہ مسیحا نفسی می آید که ز انفاس خوشش بوئے گسے می آید اے خوشا وقت کہ پھر وصل کا ساماں ہے وہی دست عاشق ہے وہی یار کا داماں ہے وہی ہو گئی دُور غم ہجر کی کلفت ساری للہ الحمد کہ اللہ کا احساں ہے وہی پھر میرے بادہ گسارو! وہی ساقی آیا ہے وہی، جام وہی، محفل رنداں ہے وہی کار سر کا ر کیا خواب و خورش کر کے حرام دیکھ لو پھر بھی بہار رخ تاباں ہے وہی سامنے بیٹھے ہیں اس بزم کے میخوار قدیم بیعت دل ہے وہی قلب میں ایماں ہے وہی قادیاں! تجھ کو مبارک ہو ڈرود محمود دیکھ لے! دیکھ لے!شاہنشہ خوباں ہے وہی آج رونق ہے عجب کو چہ و برزن میں ترے بادہ خواروں کے لئے عیش کا ساماں ہے وہی رشک تجھ پر نہ کرے چرخ چہارم کیونکر طور سینا پہ ترے جلوہ فاراں ہے وہی آمد فیر رُسل له حضرت احمد کا نزول دونوں آئینوں میں عکس رخ جاناں ہے وہی ز آتش وادی ایمن نه منم خرم و بس موسیٰ این جا بامید قبے می آید پ وہ ہیں جنہیں سب راہ نما کہتے ہیں اہلِ دل کہتے ہیں اور اہلِ دعا کہتے ہیں آپ کو حق نے کہا ”سخت ذکی اور فہیم مظہر حق وعلی۔ظلِ خدا کہتے ہیں (1) «فخر رسل، حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا الہامی نام ہے۔