بُخارِ دل — Page 65
65 کاریاں کچھ عمل اخلاص کے درکار ہیں ہو چکیں بے حد مُلَمَّعْ تجھ کو مسلم پائے جب آئے اجل ہیں اسی میں جملہ برخورداریاں پر خاک میں ملنے سے پہلے خاک پہلے خاک ہو روکتی نیکی سے ہیں خود داریاں خدمت اسلام میں خود کو لگا چھوڑ دے للہ اب بریکاریاں خادم دینِ متیں ضائع نہ ہو ایسی خدمت سے ملیں سرداریاں کر توجہ عادت و و اخلاق ترک کر دے سختیاں، خونخواریاں رفق کو اپنا بنا لے تو رفیق چھوڑ دے خلقت کی دل آزاریاں روح کو کر دے مُبادا تو ہلاک کرتے کرتے تن کی خاطر داریاں ہم نشیں اُن کا نہ ہوگا نامراد صادقوں سے کچھ لگا لے یاریاں ہوں بدی سے پاک نیت اور عمل خود بخود صادِر ہوں نیکو کاریاں چاہتا ہے گر ابد کی زندگی کر فنا کے واسطے تیاریاں یار کے کوچے کی ہو جا خاک راہ ہو جا خاک راہ اُس کی چوکھٹ پر ہوں آہ و زاریاں کر قبول اپنے لئے دیوانہ پن چھوڑ کر چالاکیاں، ہشیاریاں دل سے راضی ہو ہر اک ذلت پہ تو ہوں نہ تجھ کو عار خدمت گاریاں سے تعلق داریاں جاہ اور اولاد و عزت - جان و مال توڑ دے ان سے آتش دوزخ ہوئی اُس پر حرام عشق کی جس دل میں ہوں چنگاریاں رنگ میں احمد کے ہو رنگیں تو اور دیکھا اُس قسم کی گلکاریاں