بُخارِ دل — Page 64
64 عاقبت کی کچھ کرو تیاریاں چل رہی ہیں زندگی پر آریاں ہو رہی ہیں موت کی تیاریاں اتقیا اور اشقیا چل بسے اپنی اپنی یاں بھگت کر باریاں خاتمہ کا فکر کر لے اے مریض پیشرو ہیں مرگ کی بیماریاں جب فرشتہ موت کا گھر میں گھسا ہو گئیں بے سود آہ و زاریاں زندگی تک کے ہیں یہ سب جاں نثار سانس چلنے تک کی ہیں سب یاریاں جیتے جی جتنا کوئی چاہے بنے بعد مزدن ختم ہیں عیاریاں کر میں پرسش ہے بس اعمال کی کام آئیں گی نہ رشتہ داریاں کس نشے میں جھومتا پھرتا ہے تو رنگ لائیں گی یہ سب کے خواریاں کھینچ کر لے جائیں گی سوئے سکر نفس امارہ کی بد کرداریاں طائرِ جاں جب قفس سے اُڑ گیا ساتھ ہی اُڑ جائیں گی طراریاں چاہیئے فکر حساب آخرت عاقبت کی کچھ کرو تیاریاں ہے یہ دنیا دشمن ایمان و دیں یاد ہیں اس کو بہت مکاریاں جب تلک باطن نہ تیرا پاک کام کیا آئیں گی ظاہر داریاں کچھ کما لے نیکیاں اے جانِ من تا نہ ہوں اگلے جہاں میں خواریاں ہو کچھ اُٹھا دے دل سے غفلت کے حجاب کچھ دکھا دے کر کے شب بیداریاں