بُخارِ دل — Page 61
61 جنگ ہے باطل سے میری ہر گھڑی اس قدر میں حق میں واصل ہو گیا ہو کے مخمور مئے حُسن ازل مجھ سا نالائق بھی قابل ہو گیا عادت و اخلاق دلکش ہو گئے جامع حسن و فضائل ہو گیا نور عرفاں ہو گیا مجھ کو نصیب کور دل تھا - صاحب دل ہو گیا طاعت و اخلاص و استغفار قلب مظلم شمع محفل ہو گیا ہو گیا مشہور جو مسموع تھا جب سے فیض شیخ کامل ہو گیا لذَتِ طاعات میں رہتا ہوں محو یار پن اک لحظہ مشکل ہو گیا اب دعا ئیں بھی لگیں ہونے قبول فضل ربی جب سے شامل ہو گیا حب قرآن عشق ختم المرسلين ہر رگ و ریشے میں داخل ہو گیا دوست سے باتیں بھی کچھ ہونے لگیں پردہ اُٹھا۔گھر میں داخل ہو گیا رنگ مجھ پر چڑھ گیا دلدار کا کیا کہوں کیا مجھ کو حاصل ہو گیا مهبط انوار آئل کے ہو گیا مظہر اخلاق یزداں بن گیا دوستو! کیا کیا بتاؤں نعمتیں اب تو گننا ان کا مشکل ہو گیا ترقی ہر گھڑی انعام میں خُلد دنیا ہی میں حاصل ہو گیا اے عد و! تو بھی تو ان فضلوں کو دیکھ کیا ہوا کیوں حق سے بے دِل ہو گیا اب بھی کیا کچھ شک کی گنجائش رہی ظہور بدر کامل ہو گیا ہے (1) آئل بمعنی روح القدس- جبریل