بُخارِ دل

by Other Authors

Page 60 of 305

بُخارِ دل — Page 60

60 مجھ کو کیا بیعت سے حاصل ہو گیا؟ جب سے میں بیعت میں داخل ہو گیا تارک جملہ رذائل ہو گیا اک سپاہی بن گیا اسلام کا گفر سے لڑنے کے قابل ہو گیا توڑ ڈالے بتکدے کے سب صنم جب سے اُن مرے گاں کا گھائل ہو گیا اک نظر ترچھی پڑی صیاد کی طائر دل نیم بسمل ہو گیا ہو گئی آنکھوں میں یہ دنیا ذلیل اور مقدم دینِ کامل ہو گیا مال اور املاک وَقُفِ دیں ہوئے شوق جاہ و مال زائل ہو گیا جہل کی تاریکیوں میں تھا اسیر احمدی ہوتے ہی فاضل ہو گیا گیا پہلے منکر دین کا تھا، اور اب قائل جملہ مسائل ہو ہر عمل میں روح تقویٰ مُستر ہر عقیده با دلائل ہو گیا کیا عجب اس سلسلہ کا حال ہے کل کا جاہل آج عاقل ہو گیا ڈر جاتا تھا ابجد خوان سے اب میں مولانا کے قابل ہو گیا تھا کبھی جو تارک فرض و سُکن وہ ہو گیا پابند نوافل ہو گفته لذات دنيا العجب نفس امارہ کا قاتل ہو گیا ہو گیا شیطان مجھ سے ناامید سیحر اس کافر کا باطل ہو گیا زمزمہ اپنا لئے تبلیغ حق باعث رشکِ عَنادِل ہو گیا