بُخارِ دل — Page 37
37 ہم محو نالہ جس کارواں رہے جماعت احمدیہ جب تک کہ اس جہاں میں مسیح زماں رہے زندہ خدا کے ہم کو دکھاتے نشاں رہے مُردوں میں جان ڈالتے اذنِ خدا سے تھے اور زندگی بھی ایسی کہ وہ جاوداں رہے تشنه لبان شربت دیدار یار کو دکھلاتے راہ کوچہ جانِ جہاں رہے بلبل کو روئے گل سے شناسا کیا کیسے جب تک کہ باغ دہر میں وہ باغباں رہے اخلاص وصدق و عشق کے اُن کے زمانہ میں مکتب بنے، علوم گھلے ، امتحاں رہے اہلِ وفا کی ایسی جماعت بنا گئے حق پر فدار ہیں گے وہ جب تک کہ جاں رہے خواص اے کامیاب عشق! سنو تو سہی ذرا ہم تم بھی ساتھ تھے کبھی اے مہرباں رہے تم نے تو اُڑ کے گوہر مقصود پا لیا ہم سُست گام اور وہی نیم جاں رہے پائستہ غفلتوں نے کیا ہم کو اس قدر عمریں گزرگئیں کہ جہاں کے تہاں رہے بے دید روئے یار مزا کیا ہے گر کوئی ملتے رہے، مدینے رہے، قادیاں رہے واحسرتا! کہ کس سے کہیں اپنا حالِ زار کس کو پڑی کہ شدتا مری داستاں رہے