بُخارِ دل

by Other Authors

Page 30 of 305

بُخارِ دل — Page 30

30 مرکز گفر میں خانہ خدا شکر صد شکر کے لندن سے یہ آئی ہے تو ید مرکز کفر میں ( بیت) کی زمیں لی ہے خرید بالیقیں وقت یہی ہے کہ منور کر دے وادی ظلمت تثلیث کو نور توحید جب مؤذن کہے مینار پہ ”اللہ اکبر اُس گھڑی سمجھو کہ بر آئی ہماری اُمید بانی (بیت) لندن ہے مسیح موعود ثانی ( بیت ) اقصیٰ ہے یہ مغرب کی کلید ہم نشیں دیکھ ! ذرا پشم بصیرت وا کر کیا یہی تو نہیں مغرب سے طلوع خورشید؟ دقت ہے وقت کہ یورپ کو کرور شرک سے پاک اُٹھو اے جان شارانِ لِوَائے توحید جب تلک جان و تن و مال نہ قرباں کر دیں مابداں مقصد عالی نہ توانیم رسید احمدی! تجھ کو ہی سب بوجھ اٹھانا ہوگا آسماں بار امانت نتوانست کشید له الحمد ہر آن چیز که خاطر میخواست آخر آمد ز پس پرده تقدیر پدید نوٹ : یہ نظم اُس جلسے میں پڑھی گئی جو ڈلہوزی پہاڑ پر 9 ستمبر 1920ء کوحضرت خلیفہ امسیح ثانی کی زیر صدارت بر تقریب خرید زمین بیت لندن منعقد ہوا اور افضل 7 /اکتوبر 1920ء میں چھپی ہے۔