بُخارِ دل — Page 265
265 (136) أم الصفات گرچہ بے حد ہیں خداوندی صفات ہے مزین جن سے اُس کی پاک ذات سب کا تین کو سمجھو، مگر علم، قدرت، رحم ہیں ائم الصفات (137) اسم اعظم اسم اعظم حق تعالیٰ کا فقط اللہ ہے سارے اسمائے صفاتی کا یہ جلوہ گاہ ہے یعنی پاک ہر عیب سے ہے متصف ہر حسن سے سب سے برتر سب سے اعلیٰ سب سے عالی جاہ ہے (138) انسان کو صاحب حال ہونا چاہئے ” تھا قلم میرا جو اک دن چال مست یہ لگا کہنے کہ بن جا حال مست“ پھر نصیحت کی کہ ” مت ہونا کبھی قال مست و شان مست و مال مست " (139) ترک و اختیار چھوڑا خدا کے واسطے کیا تو نے میرے یار ؟ اور کیا کیا ہے اُس کے لئے تو نے اختیار؟ ثابت نہیں اگر یہ ترا اختیار و ترک دعوے کو بندگی کے اٹھا اپنے منہ پہ مار (140) شادی خاں کلمتہ اللہ خاں ” میرزا" کو کہا جو شادی خاں اس میں کیا راز ہے بھلا پنہاں غور کر تاکہ پائے تو اُس میں بعض اعلیٰ خصال افغاناں (141) جوانی میں انساں خود کو جیسا بنالے، پیری میں بھی ویسا ہی رہتا ہے عشق کا تیرے جوانی میں لگا تھا مجھے تیر وقت کچھ گزرے تو تکلیف بھی مٹ جاتی ہے لیکن اب آ کے وہی درد ہوا پھر ظاہر کہ بڑھاپے میں ہر اک چوٹ اُبھر آتی ہے