بُخارِ دل

by Other Authors

Page 245 of 305

بُخارِ دل — Page 245

245 اس پر صاحبزادی صاحبہ نے اُن کو مخاطب کر کے ایک شعر پڑھا جس کے متعلق انہوں نے خواب میں سمجھا کہ حضرت مسیح موعود کا شعر ہے اور حضور نے یہ شعر ان لڑکوں کے حق میں فرمایا ہے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تم کو اب قادیان سے علیحدگی کی پاداش میں سزا ملے گی۔اس قطعہ میں خواب والا شعر دوسرا ہے۔پہلا شعر اس خاکسار نے لکھ کر اس کو قطعہ بنادیا ہے۔کوئے جاناں سے جو بھاگے ہو کدھر جاؤ گے؟ حسن و احساں میں نظیر اُس کا کہاں پاؤ گے؟ آخری وقت میں تو بہ تو کرو گے لیکن اب کبھی قادیاں والے نہیں کہلاؤ گے (35) بہت تھوڑی پونچی ہے ایمان کی اور اُس پر بھی نیت ہے شیطان کی کوئی دم میں اُڑ جائے گا یہ بھی ٹور مدد گر نہ پہنچے گی رحمان کی (36) خطاب به پیغامیاں ’ پیراں نمی پرند تھے نااہل پیر جو ان کے مُرید ان کو اڑاتے تھے دوستو ! لیکن تمہارا پیر تو اُڑتا ہے مثل برق ایسے کے پر جو توڑو ، تو کیسے مُرید ہو! (37) انبیاء کے خاص معاندین نبیوں سے جنگ کرتا وہی چال باز ہے جس کو زنیم ہونے میں خاص امتیاز ہے مہلت بھی اس کو ملتی ہے پھر خوب ہی طویل سچ ہے کی رسی دراز ہے 1 یعنی نبوت کو بزور اُس سے الگ کرو 66