بُخارِ دل

by Other Authors

Page 229 of 305

بُخارِ دل — Page 229

229 ہم قادیان سے بول رہے ہیں THIS IS QADIAN CALLING 1943ء میں حضرت خلیفہ اسیح ثانی بہت بیمار ہو گئے اور بیماری لیبی ہوگئی۔پھر طبی مشورہ کے بعد چند ماہ کے لئے ڈلہوزی تشریف لے گئے۔قادیان والوں کے لئے اتنی لمبی جدائی نہایت غیر معمولی تھی۔چنانچہ جب عید اور رمضان کی آخری دُعا کا موقع آیا تو لوگ بہت بیتاب نظر آتے تھے۔اُن احساسات کے ماتحت دونوں نظمیں لکھی گئی تھیں۔پھر حضور عید اور دُعا کے موقع پر قادیان تشریف لے آئے اور لوگوں نے خوشی کی عید منائی۔ہوئے سوز عاشقاں آید ہے دود آہ قادیاں آید ہے خاک پائے شہر یار دلبراں در دو چشم سرمہ سال آید ہے قادیاں جسم ست و محمودش رواں باز گے در تن رواں آید ہے۔1 شهد ازکے د تهی از کے خُم بادہ کشاں تا ༩ گے پیر مغال آید ہے یار در گهسار و یاران در وطن عید رمضاں رائگاں آید ہے عید یاراں گے شُود در قادیاں تا نه ماہِ قادیاں آید ہے تا بکے اُمید آن روز وصال؟ جاں بہ تن یا تن بجاں آید ہے کز سخن بُوئے دُخاں آید ہے ز آتش فرقت جگر با سوختند (1) رُوح ہا