بُخارِ دل

by Other Authors

Page 226 of 305

بُخارِ دل — Page 226

226 اہلِ مغرب کی تو فطرت میخ ہے ساری باتیں ”فطرتی گم ہو گئیں تیرے آبا کا عمل ان سب پہ تھا وائے حسرت! تو نے ساری چھوڑ دیں عقائد جو خدا مانے، وہ احمق ہے نرا اور اگر ہے وہ تو دکھلاؤ کہیں نام مذہب کا نہ لاؤ مُنہ پہ تم اس سے سب پیدا ہوئے ہیں بغض رکیں ہے تمیز حلت و حرمت فضول آدمی آزاد ہے قیدی نہیں مر کے مٹی میں سب ہی مل جائیں گے کیا کبھی مُردے بھی اُٹھے ہیں کہیں ہے قانون تعزیرات ہند کافی اس سے بڑھ کر لغو ہے قانونِ دیں زینت سرخی اور پوڈر ہے چہرے پر لگا مرد سے عورت بنا ہے نازنیں ناک سے اور منہ سے سگرٹ کا دھواں یوں ہے جیسے چل رہی ہو اک مشیں کٹ گئے ٹانسل اپنڈکس کی شوق میں پر ہے ختنہ پر ہمیشہ نکتہ چیں کچھ جو بچے ہیں وہ بابا لوگ ہیں ہندی کہلانے سے ہیں چیں بر جبیں میم صاحب محرم نا محرماں ناچنے گانے لگی مَحْمَل نہیں بجے تک جاگتے رہنا فضول سوتے رہنا نو بجے دن تک یونہیں چھوڑ ایسی زندگی کو اے عزیز دو تو ہے تہذیب دجال لعیں Appendix 2 Tonsil 1