بُخارِ دل

by Other Authors

Page 225 of 305

بُخارِ دل — Page 225

225 ہم تو تیرے ہیں خاک پا اے دوست تعجب اور کبر سے ہمیں کیا کام جس کی آنکھوں میں رات کٹتی ہو وہ تہجد میں کیا کرے گا قیام چیز کیا ہیں یہ نصرت و تائید تم ہی آؤ گے وقت پر کچھ کام ہم فقیروں کو دیجئے خیرات اور کچھ چاہتے نہیں انعام (الفضل 17/دسمبر 1944ء) مغرب زدہ صفائی مرحبا! یورپ زده، فیشن پرست خوب ہے تیری صفائی اے حسیں! داڑھی مونچھیں صبح دم ہوتی ہیں صاف اور بنا کرتی ہے زُلف عنبریں میل اور صابن کے اندر بیٹھ کر ایک ٹب میں غسل ہوتا ہے وہیں مُوئے زیر ناف اور مُوئے بغل بن گئے ہیں تیرے مارِ آستیں موتنا ہو کر کھڑے اس طرز سے جس سے بیل اور اونٹ تک ہوں شرمگیں پُرزہ لے کر رڈی اک اخبار کا بعد حاجت صاف کرتا ہے سر میں تیرے نائن پنجہ سنگ سے غلیظ ہے چھری کانٹے میں سب ایمان و دیں تازہ کھانا منع ہے تیرے لئے ہیں غذا ئیں امریکہ و یورپ کے ٹیں دانت تیرے میل سے ہر دم گھرے کھا کے گلی تک نہیں۔صد آفریں! جوتیوں سے فرش پر پھرتا ہے یوں تو ہے گویا ساکن چرخ بریں پھر بھی تو کہتا ہے ”کالا لوگ“ کو ” کچھ صفائی آپ لوگوں میں نہیں“