بُخارِ دل

by Other Authors

Page 217 of 305

بُخارِ دل — Page 217

217 ہم مُصَدِّق امام مہدی کے وہ مکذب ہے کیونکہ انجمن مستغنی اُس کی سیدھی نہیں کوئی گن ہے ہے ہو امام الزمان سے اُن کے افعال قابل انزام قوت فیصلہ ہوئی شکل ہے نہ تو اخلاق ہیں کوئی دلکش نہ عقیدہ کوئی مدلل ہے قعر ذلت میں ہیں پڑے بے ہوش جیسے مدہوش کوئی پاگل ہے ہے شریعت فقط دکھانے کو ہر طرح سے رواج افضل ہے غیرت دین اڑ گئی بالکل عذر یہ ہے کہ ہم تو سوشل ہے“ چھوڑنا چاہتے ہیں کمبل کو نہیں چھوڑتا یہ کمبل ہے ہم کو تقویٰ نصیب اللہ کا ان کا سب کاروبار چھل بل ہے ہر قدم اپنا ہے دُعا سے تیز اُن کی جو چال ہے سو مزین ہے گم ہوئی سب حلاوتِ ایماں پر ہر ہے طرف تلخیاں ہیں وحی و الہام ہو گئے مسدود باپ رحمت پڑا مقفل ہے مُقَفَّن دین سے اُن کو کچھ نہیں ہے مسن روئے دلبر نظر سے اوجھل ہے ہو گئے حق کے سخت نافرمان اس لئے عقل بھی معطل ہے غیر قوموں نے پیس ڈالا ہے ہر قدم زندگی کا بوجھل ہے خوف اور خون دل پہ ہے طاری ہر گھڑی غم کی ایک ہل چل ہے ہے تھا خلافت کا جو عجیب نظام اُن کے نزدیک وہ بھی مہمان نشے ہیں حلال یاروں کو خواہ ہے وہ پرسن کہ بوتل ہے جھوٹ، چوری، دغا، جُوا دنگا قوم اُن کی ہی سب میں اون ہے