بُخارِ دل

by Other Authors

Page 216 of 305

بُخارِ دل — Page 216

216 وہ اندھیرے میں ٹھوکریں کھاتے ہاتھ میں میرے حق کی مشعل ہے پر زنگ ہے اُن کی عقل پر دل شیشه دل پہ میرے متقن احمدی شہسوار راہِ ہدی غافل ہے ނ غیر اخراج ہے اور پیدل ہے غیر تبلیغ حق سے ہے ہے علم کلام کا رشتر وہ اپنے وہ ہے فعال بلکہ افعل اور مقابل میں جو ہے آنجہان ہے ہے بھی مولوی فاضل اُن کا فاضل بھی پست و زمین ہے اتحاد اپنا ظاہر , باہر اُن میں اُن میں ہر روز سر پھٹون ہے ہم تو ہیں مثلِ مہر و مہ روشن وہ ہے کر مُہرہ بلکہ خون ہے ہمیں اُن کا اتارہ اور بیکل ہے مل گیا نفس مطمئنہ ہمیں اپنی جولانیاں فلک پر ہیں اُن کے پیروں کے نیچے لدن ہے بڑھ رہا ہوں میں، ہٹ رہے ہیں وہ میں ذہین اُن کی عقل مُخْتَلُ ہے وہ تو ہیں ریت کے فقط تو دے احمدی بارشوں کا بادل ہے باغ تقویٰ میں رُوح ہے میری اُن کے ہاں خواہشوں کا جنگل ہے اپنی ہر رات ہے شب اول اُن کا ہر روز روز اول ہے اُن کا امروز ماتم دیروز آج سے خوب تر مرا کل ہے نہ تو رہبر، نہ کوئی ہے لیڈر نہ کوئی لائحہ مکمل ہے ہیں سیاست میں بے سُرے اتنے کہ نہ قائد کوئی، نہ جنرل ہے پا بہ گل خر ہیں عالمان بز پشت پر پنتکوں کا بنڈل ہے حق کے مامور کا جو ہو منکر بس سمجھ لو کہ عقل مُخْتَلُ ہے