بُخارِ دل

by Other Authors

Page 205 of 305

بُخارِ دل — Page 205

205 اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے عمر رواں کے سال کہاں اور کدھر گئے کچھ بے عمل چلے گئے، کچھ بے مر گئے جوئن اُڑا، جوانی لٹی، بال و پر گئے کی تو بہ ہر خزاں میں مگر پھر مکر گئے اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے کچھ شعر و شاعری کا بجایا کئے رُباب کچھ دردسر نے اور دمہ نے کیا خراب بے خوابیوں میں کٹ گئیں شب ہائے بے حساب اعمال پھر بھی کرتے رہے ہائے ناصواب اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے غنچے کھلے ، خزاں گئی ، گل خندہ زن ہوئے گلشن بھرے، ہوا چلی ، تازہ چمن ہوئے نرگس، گلاب، یاسمن و نسترن ہوئے دل کی کلی مگر نہ کھلی۔بے تجن ہوئے اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے تم نے تو ہر بہار میں پوری کی اپنی بات فرمایا جو زبان سے اُس کو دیا عبات گوسر پٹکتے ہم بھی رہے از پئے نجات پر گوہر مُراد نہ آیا ہمارے ہات اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے پچھلا حساب گرچہ نہ بیباق تھا ہوا امسال پھر بھی عہد یہ تھا ہم نے کر لیا بعد از خزاں یہ قرض کریں گے کبھی ادا افسوس پر، کہ بار یہ بڑھتا چلا گیا اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے 1 پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی ( الہام حضرت مسیح موعود )