بُخارِ دل — Page 199
199 اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں خواب تک میں جب نہ دیکھا ہو تو کیا تعبیر ہو؟ جب نہ ہو بنیاد ہی کچھ پھر کہاں تعمیر ہو؟ متن ہی ہو عقل سے بالا تو کیا تفسیر ہو جو تصور میں نہ آئے۔اُس کی کیا تصویر ہو اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں“ بُت پرستوں نے دکھائیں گو بہت عیاریاں پھر بھی قسمت میں رہیں ان کے سدا نا کامیاں وصل کے رشتے کی رہزن ہے ہر اک تصویر یاں اصل کی تو ایک بھی خوبی نہیں اس میں عیاں اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں“ محسن کہتے ہیں صفات حضرت باری کو ہی محسن جسمانی مراد اس سے نہیں ہرگز کبھی مضخف جاناں میں ہے تصویر جو معشوق کی کیسی اعلیٰ ہے’ ذرا گردن جھکائی دیکھ لی“ اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں حسن کے فیضان کو احسان کہتے ہیں سبھی لابدی ہے عشق جب احساں کی ہو جلوہ گری چھوڑ کر محسن کو جس نے کی صنم کی پیروی اُس پر شرک و کفر وظلم و فسق کی لعنت پڑی اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں“ اپنے جاناں سے تو کر لیتے ہیں عرضِ مدعا فانی تصویریں کریں گی کیا مری حاجت روا سامنے میرے ہے میرا قادر و زندہ خدا جو ازل سے تا ابد یکساں رہے گا اور رہا اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں“ (الفضل یکم ستمبر 1943ء) (1) یعنی قرآن شریف