بُخارِ دل — Page 197
197 اپنی پیدائش - خدائی جبر زمانہ اور نسب دلبر من! تیرے ہی ہاتھوں سے تھے اک عجب عالم نظر آیا یہاں قادیاں، دہلی سے جب ہم آ گئے زندگی اُستاد، ہم صحبت، عزیز دین و دنیا اور وطن سب تھے نئے سرگزشت ما از دست خود نوشت جو ہو خوش خط کس طرح بدخط لکھے مل گیا تقدیر سے خیر القرون اہلِ جنت سے علائق ہو گئے تھے مسیح وقت کے زیر نظر حضرت مہدی کے قدموں میں پکے عمر بھر دیکھا کئے حق کے نشاں اہل باطن کی مجالس میں رہے دو خلیفہ، جیسے سورج اور چاند یک نبی بہتر ز ماه و خاورے تربیت، تعلیم اور ماحول سب بے عمل، یہ فضل تو نے کر دیے از کرم این لطف کر دی، ورنہ من ہیچو خاکم، بلکہ زاں ہم کمترے حسن کی اپنے دکھا دی اک جھلک دل دواں ہر لحظہ در کوئے کئے“ طائر دل تیر مژگاں کا شکار سوختہ جانے زِ عشق دلبرے“ جود و احساں نے ترے گھائل کیا وصل کے آنے لگے پیہم مزے جس کو تو ہی خود نہ چھوڑے وہ بھلا تیرے قابو سے نکل کیونکر سکے جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار مو کشانم می برد زور آورے“ (الفضل 13 اگست 1943ء)