بُخارِ دل — Page 193
193 عقلمندی بھی یہی ہے۔حکم بھی ایسا ہی ہے جو ہے آخر چھوڑنی، پہلے ہی اُس کو چھوڑ دے دنیا کا انجام تندرستی اور جوانی میں عجب اک جان تھی آن تھی اور بان تھی اور تان تھی اور شان تھی پھر گزر کر وہ زمانہ، ہو گیا جس دم ضعیف ”ہائے ہائے‘ رات دن اور موت کی گردان تھی چھوڑ کر سب کچھ ، چلا جب ہاتھ خالی اُس طرف گھر الگ ویران تھا، بیوی الگ حیران تھی کام سارے تھے ادھورے، بندھ گیا رختِ سفر دل بھی مصروف فغاں تھا، آنکھ بھی گریان تھی وائے حسرت، مالک ومحسن سے لا پروا رہا تب پتا اُس کو لگا، جب سامنے میزان تھی (28 جولائی 1943ء)