بُخارِ دل — Page 156
156 نہیں بندے میں یہ طاقت کہ نم کر دے کسی کا کم خدا ہی ہے کرے گا جو تمہارے دل کی دلداری کرو رُخصت خوشی سے تم خطائیں بخش کر میری بخشم ہو وفاداری - سراپا ہو نکو کاری جو ایسی نیک دل خود ہو، اُسے کہنے کی کیا حاجت مگر کہنا ہی پڑتا ہے ” خدا داری چه غم داری" وقار اپنا بنا رکھنا نہ ضائع جائے خودداری کوئی کہنے نہ یہ پائے کہ ہے آفت میں بیچاری خدا محفوظ ہی رکھے خوشامد سے لجاجت سے مطاعن سے مصائب سے، نہ آئے پیش دُشواری وہی دیتا ہے سب عزت اسی کے ہاتھ ہے ذلت مگر لیکوں کو کیا ڈر ہے " خدا داری چه غم داری" یہی مرضی ہے مولیٰ کی ، یہی اُس کا طریقہ ہے زمیں پر رہ چکے اتنا ہے اب زیر زمیں باری جنازہ جا رہا ہے ساتھ ہیں افسردہ دل بھائی یہی ہے ریت دُنیا کی ہمیشہ سے یونہی جاری زمینی ساری تکلیفیں پر پیشہ سے کمتر ہیں نوائے آسماں گر ہو ” خدا داری چه غم داری“