بُخارِ دل

by Other Authors

Page 155 of 305

بُخارِ دل — Page 155

155 میرے کمرے کو خالی دیکھ کر جی مت بُرا کرنا ندلب کا نہیں نہ دل دھڑ کے نہ آنسو ہوں بہت جاری نہ باتیں رنج کی نکلیں۔نہ کھانا ترک ہو جائے نہ ٹانگیں لڑکھڑا جا ئیں۔نہ ہو جائے غشی طاری کلیجے کو پکڑ لینا، خدا کو یاد کر لینا کہ کی فرما گیا کوئی " خدا داری چه غم داری" وہی رب ہے ہمیشہ سے وہی ہم سب کا مالک ہے وہی ہم سب کا محسن ہے وہی ہے خالق و یاری وہی تکیہ ہمارا ہے، وہی اپنا سہارا ہے نہ چھوڑیں گے قدم اُس کے چلے سر پر اگر آری جب ایسا دوست ہو اپنا تو پھر کیوں فکر ہو ہم کو کہ خود کہتا ہے وہ مجھ کو ”مرا داری چه غم داری“ نہ بھولیں گی کبھی ہرگز نہ بھولیں گی کبھی ہرگز تمہاری چاہتیں مخفی تمہاری خدمتیں بھاری تمہاری صبر و خاموشی تمہاری شکر و خود داری تمہاری محنتیں، قربانیاں، طاعات و غم خواری ہمیشہ یاد آؤ گی۔کہیں ہم ہوں جہاں بھی ہوں یہی پیغام بھیجیں گے ”خدا داری چه غم داری“