بُخارِ دل — Page 152
152 خلیفہ کی شفقت اور نظام کی برکت اس نظم میں واوین والے مصرعے حافظ علیہ الرحمتہ کے ہیں۔سوائے ایک کے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔1943ء میں دو ماہ تک پنجاب کے شہروں کی مسلسل ہڑتال اور اس کے بعد کنٹرول کے نتیجہ میں جن تکالیف اور مشکلات سے اہلِ ملک اور شہروں کے رہنے والوں کو سامنا ہوا ہے وہ خدا کے فضل سے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی پیش بینی اور جد وجہد کی وجہ سے اہلِ قادیان کو پیش نہیں آئیں۔فالحمد للہ 1 ہوئی تھی قحط کی صورت نہ قادیاں میں ابھی کہ یوسفم شکر و روغن و غذا آورد بپا تھے ملک میں جب کنٹرول اور ہڑتال ز هر مکان غرض مند التجا آورد نیا نظام تھا حیران ہو کے کہتے تھے که کیست حاتم و این گندم از کجا آورد ہر ایک گرسنہ سُنتا تھا یہ صدا ہر روز بر آر سر که طبیب آمد و دوا آورد یوسف حضرت علیہ اسیح الثانی کا نام ہے۔کا نام