بُخارِ دل

by Other Authors

Page 115 of 305

بُخارِ دل — Page 115

115 تو ہے گر ، سب کچھ ہے ، ورنہ کچھ نہیں بات گل اتنی ہے قصہ مختصر خالق و باری مُصوّر تیری ذات ظاہر و باہر خفی و مُسْتَتَرُ سر اُٹھا سکتے نہیں اس بوجھ سے ہم پہ احساں ہیں مسلسل اس قدر : کی و قیوم و صمد بر و کریم با جلال و با جمال و با خبر بخش دے میرے گناہ میرے غفور ظاہری ہوں، خُفیہ ہوں یا خُفیہ تر عاقبت محمود از لطف و کرم جسم و جاں محفوظ از نارِ سفر تیرے احسانوں سے رہتے ہیں مُدام جان قُرباں، دل گداز اور چشم تر شکر تیری نعمتوں کے کیونکر ہوں ہوگئی اس بوجھ سے دُہری کمر کس طرح میں جان و دل قرباں کروں تا کہ پاؤں مہربانی کی نظر جلوہ گر کر آگ اپنے عشق کی جس سے پھک جائیں مرے قلب و جگر عاشقی آه سرد و رنگ زرد و چشم تر احمدیت عاشقی کم خور و کم گفتن و خلال حرام جان به یار ونفس دوں زیر و زیر احمدی جو حُسن کا ہر دو ہے جوہری کہہ رہا ہے برملا اور بے خطر عالم قیمت خود گفته جان من از قدر خود واقف نه؟ نرخ بالا کن که ارزانی ہنوز (الفضل 30 دسمبر 1942ء)