بُخارِ دل

by Other Authors

Page 114 of 305

بُخارِ دل — Page 114

114 عشر اپنے مال کا دے جو کوئی نیک نیت سے ہوں گر قُر بانیاں مردِ مسلماں، سادہ دل احمدی از مخلصان قادیاں اُن کو ملتا ہے بہشتی مقبرہ ہے فقط اتنا ہی یارو امتحاں منزل شاں برتر از عرش بریں بس نہاں اندر نہاں، اندر نہاں وعده وصل و رضا اُن سے ہوا از جناب حضرت ذی عزّ و شاں تیری قیمت چند درہم ! العیاذ عقل سے بالا ہیں یہ نیرنگیاں یا تو خود مطلوب طالب بن گیا یا ہے کوئی راز پھر اس میں نہاں ہر دو عالم قیمت خود گفته اس قدر پھر کیوں رعایت ہو ہو گئی نرخ بالا کن که ارزانی ہنوز ·(6)۔اے میرے اللہ! اے میری سپر کون ہے جو تُجھ سے ہو گا خُوب تر ایکه میداری تو بر دلها نظر ایکه از تُو نیست چیزے مُسْتَتَرُ عالم کو تو ہی ہے پالتا فضل سے اپنے ہمیں کر بہرہ ور سارے۔رحمتیں کثرت سے ہوں اور بار بار اے مرے مالک جزا دے بیشتر سب جہاں جگمگ تیرے انوار سے ٹور کے پرتو فگن شمس و قمر حسن سے تیرے ہے سب جوش و خروش عشق کا تیرے تمامی شور و شر ہیں تصرف میں ملائک جن و انس حکم پر آقا کے ہے سب کے نظر ماچساں بندیم از دلبر نظر ہمچو روئے تو کُجا روئے دگر