بُخارِ دل

by Other Authors

Page 103 of 305

بُخارِ دل — Page 103

103 کہاں وہ قصہ مجنوں و لیلی کہاں وہ نقشہ فرہاد و شیریں نشہ اُن کا ہے اب تک سرز میں باقی جو ہم نے حجتیں تیری اُٹھائیں یہ جان و مال سب قربان تجھ پر کہ راہیں تو نے مولا کی دکھائیں کہاں ملتا ہمیں وہ یار جانی! ہوتا گر رسول قادیانی! ترے قدموں میں اے بزرِ مُنوَّر جگہ تھوڑی سی آ جائے میر تمہارے پیر ہوں اور میرا سر ہو اگر قسمت ذرا ہو جائے یاور تری کرنوں سے ہو جاؤں میں روشن تیری خوشبو سے ہو جاؤں مُعَطَّرْ جمال ہم نشیں مجھ کو بنا دے مور اور مُطَيَّر اور معتبر سرور قُرب رُوحانی کے ہمراہ خدایا! قرب جسمانی عطا کر فرشتے بھی کہیں پھر ہو کے حیراں اُٹھوں میں قبر سے جب روز محشر و مسیحا کی شفاعت کی نشانی کھڑا ہے دیکھ لو قادیانی صدی گزری ہے فرقت میں تہائی بھلا اتنی بھی کیا لمبی جدائی میرے آقا میری ایک عرض سُن لو نہیں رکتی ہے منہ پر بات آئی ہوئے بدنام اُلفت میں تمہاری رکھایا نام اپنا میرزائی ہزاروں آفتیں اس راہ میں دیکھیں مگر لب پر شکایت تک نہ آئی یہی بدلہ تھا کیا مہر و وفا کا! کہ اتنی ہو گئی بے اعتنائی