بُخارِ دل

by Other Authors

Page 102 of 305

بُخارِ دل — Page 102

102 اُٹھا لے کر محمد کے علم کو کلام اللہ کی شان اتم کو دلائل سے دعا سے معجزوں سے پہلا ڈالا عرب کو اور عجم کو قلم کر دیں حریفوں کی زبانیں چلایا تو نے جب سیف قلم کو اثر کیسا تھا تیرے نَبتَھل میں گئے دشمن سب ہی ملک عدم کو ہزاروں رحمتیں تجھ خدا کی نشاں کیا کیا دکھائے تو نے ہم کو تیرے صدقے امام آسمانی غلام احمد نبي قادیانی 66 صبا روضے رسول اللہ دے جائیں مرا احوال رو رو کے سنائیں خبر تم نے نہ لی ہم غمزدوں کی بھلا کیا ہے یہی اُلفت کا آئیں؟ وہ مکھڑا چاند سا آتا ہے جب یاد تڑیتے پھرتے ہیں تیرے مجانیں فراق یار کے ان دل جلوں کو وصال یار پن کیونکر ہو تسکیں بہت کم رہ گئے اب تو صحابی اُڑے جاتے ہیں دنیا سے یہ شاہیں ہوا کرتا تھا وہ بھی کیا زمانہ کہ آتے تھے تمہیں حق سے فرامیں تیرے عاشق تیری پیاری زُباں سُنا کرتے تھے اُلفت کے مضامیں لگا کرتیں مجالس پنجگانہ ہوا کرتیں دُعائیں اور آمیں اُترتا تھا کلام حق شب و روز نہ وہ باتیں کسی نے پھر سُنائیں کہاں وہ بزم ہائے بلبل و گل کہاں وہ حلقہ ہائے ماہ و پرویں 1 پنجابی