حضرت بُو زینب صاحبہؓ

by Other Authors

Page 2 of 35

حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 2

حضرت یو زینب صاحبہ 2 رواج تھا۔اُس کا اثر اُن پر بھی تھا۔لیکن نواب صاحب ان باتوں کے بے حد مخالف تھے۔اس لئے ان کی تربیت کے زیر اثر آپ نے بھی بد رسوم ترک کر دیں۔اور تعویز گنڈہ جو اُن کی والدہ یعنی نواب صاحب کی خالہ کبھی دے جاتی تھیں ،ترک کر دیا تھا۔اتفاق سے جب بھی کسی چلہ یا علالت کے موقع پر ایسی کوئی چیز گھر میں آئی ، باوجود نہایت درجہ پوشیدہ رکھنے کے حضرت نواب صاحب کو علم ہو جاتا آپ ایک لطیفہ بیان فرماتے تھے۔ایک کپڑے کی باریک سیون میں ایک بار خالہ نے تعویز سی دیا۔اُس پر میرا ہاتھ پڑا اور فوراً اُس سیون کے کرار پن سے شعبہ پیدا ہوا۔اُسی وقت اُدھیڑ ڈالا دیکھا تو تعویز ! اس پر اُن کو ایک اعتقاد سا ہو گیا تھا کہ نواب صاحب کو ایسی چیز کا ضرور پتہ لگ جاتا ہے۔کچھ ہر وقت کی صحبت اور نصیحت کا اثر پڑا اور آخر میں انہوں نے اپنے آپ کو بالکل نواب صاحب کی پسند اور مزاج کے مطابق بنالیا۔گو آپ نے بیعت نہیں کی تھی اور قادیان جا کر رہنا بھی پسند نہیں کرتی تھیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے نتیجے میں آپ کی کا یہ پلٹ گئی۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور میاں محمد عبداللہ خان صاحب