حضرت بُو زینب صاحبہؓ

by Other Authors

Page 23 of 35

حضرت بُو زینب صاحبہؓ — Page 23

حضرت کو زینب صاحبہ 23 لئے اور کھیلنے کے لئے اکٹھے ہوتے ، جب یو صاحبہ کو پتہ چلتا، اپنی ملازمہ بھیج کر ان کو کہلواتیں ، کہ کھیل سے فارغ ہو کر سیدھے میرے آنا اور دو پہر کا کھانا کھا کر جانا۔“ سب بچے بھی ان سے بہت بے تکلف تھے، بعض اوقات سارا سارا دن ان کے پاس گزارتے بے تکلفی سے کھاتے پیتے، کھیلتے کودتے ان سے باتیں کرتے ، چھیڑ خانیاں کرتے ، چونکہ سٹیشن آپ کے گھر کے ساتھ ہی تھا ، اس لئے سب بچے گاڑی سے اتر کر پہلے یو صاحبہ کے ہاں جاتے پھر تازہ دم ہو کر اپنے اپنے گھروں کو۔ایک بار مرز امظفر احمد صاحب مرحوم ابن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کیا کیا کہ جب لاہور پڑھتے تھے تو ایک چھٹی پر قادیان آئے دس بجے گاڑی پہنچی اتر کر سیدھے کو صاحبہ کے بیٹوں کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے ،سارا دن وہاں رہے۔اور شام 4 بجے گاڑی پر بیٹھ کر واپس لاہور ، جب حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو پتہ چلا تو آپ نے ان کو لکھا: " تمہارے چچا نیچی سے محبت اور تم کزنز کی آپس کی محبت دیکھ کر مجھے دلی خوشی ہوتی ہے لیکن بیٹے ! ماں باپ کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔“ غرض وہ بہت خاطر داری کرنے والی بہت اچھی مہمان نواز تھیں۔جب بھی کوئی ملنے جاتا ، خواہ ایک بچہ ہی کیوں نہ ہو ( کیونکہ خاندان