بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 14

غمگین ہوتی ہیں یہ فیصلہ تو میرا ہے۔یہ غم آپ کے دل میں بھی نہیں رہنے چاہئیں۔یہ تو میرے دل میں منتقل ہونے کا حق رکھتے ہیں۔آپ مجھے دے دیں۔میں جانوں اور میرا خدا جانے آپ ہرگز خشمگین نہ ہوں۔اور بے فکر ہو کر ان باتوں کی قبیل کریں۔ذمہ دار میں ہوں۔آپ پر ان کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ آغاز اسلام میں بھی تو یہی ہوتا تھا۔میں کیا اور میری بساط کیا۔میں تو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا غلام ہوں۔گنہگار اور کمزور انسان ہوں نہیں جانتا کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس منصب پر فائز فرمایا۔لیکن جیسا بھی میں تھا اور جیسا بھی میں ہوں۔اس منصب کی ذمہ داریاں لازماً ادا کرنے کی کوشش کروں گا۔مجھے دُنیا کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں۔میں اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ مرنے کے بعد خدا کے حضور جواب دہ بنوں۔اس لئے دُنیا کی باتیں تو میں برداشت کرلوں گا لیکن خدا کے حضور جواب دہ بننا مجھے قبول نہیں ہے۔پس میں نے اپنی باجی جان سے کہا کہ آپ بے فکر رہیں۔اس سے پہلے باتیں کرنے والوں کی زبانوں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں چھوڑا تو ہم کیا حیثیت رکھتے ہیں۔مختلف فیصلے مختلف نیتوں کے ساتھ کئے جاتے ہیں اور مختلف نیتیں ان کی طرف منسوب کر دی جاتی ہیں۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد اور دوسرے غزوات سے فارغ ہو کر واپس مدینہ جانے لگے تو اس سے پہلے ایک واقعہ ہوا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مہاجرین کو جو واپس مکہ میں اپنے گھروں میں آباد ہورہے تھے مال غنیمت میں سے بہت کچھ دیا اور وہ انصار جو مدینہ سے آپ کے ساتھ آئے تھے وہ قریباً خالی ہاتھ کوٹ رہے تھے۔اس وقت ایک بدقسمت انصاری نے یہ اعتراض اٹھایا کہ 14