بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 9

گی اور بے حیائی میں ایسے قدم آگے بڑھائیں گی کہ نہیں روکی جاسکیں گی۔اس کے برعکس بعض ایسی سوسائیٹیاں ہیں جہاں بے حیائی عام ہے اور جہاں ننگ کا تصور ہی مختلف ہے۔ننگے بازو، ننگے چہرے بلکہ بدن کے ایسے اعضا ننگے کر کے پھرتی ہیں کہ انسان کی نظر پڑ جائے تو حیران ہوتا ہے کہ عورت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ایسے ماحول میں جب عورتیں احمدیت میں داخل ہونے کے بعد اسلامی قدروں کو اختیار کرتی ہیں تو گو وہ اپنے چہروں کو نہ بھی ڈھانپ رہی ہوں پھر بھی وہ چادر کے ساتھ ایسا پردہ کرتی ہیں کہ ان کی شرافت اور نجابت ساری سوسائٹی کو نظر آ رہی ہوتی ہے۔اس سوسائٹی میں وہ بعینم اسلامی پردہ ہے۔وہ استثناء نہیں ہے۔اس لئے مختلف حالات میں مختلف پس منظر کو دیکھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اسلام نے ان سب چیزوں کی گنجائش رکھی ہے۔پھر ایک اور پر وہ ہے جو اہلِ بیت کا پردہ ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اہل بیت کا خدا اور تھا اور عام عورتوں کا خدا اور ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ خدا جانتا تھا کہ بعض خاندانوں پر زائد ذمہ داریاں عائد ہوا کرتی ہیں۔اگر وہ گناہ کی طرف ایک قدم اٹھائیں گی تو دوسری عورتیں ان کی وجہ سے دس قدم اٹھائیں گی اور اگر وہ نیکی کی طرف ایک قدم اٹھا ئیں گی تو دوسری عورتیں بھی ان کی اتباع میں قدم نیکی کی طرف اٹھائیں گی۔اسی بنیادی فلسفے کو پیش نظر رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ نے جو خالق کا ئنات ہے اور جس نے انسانی فطرت کو پیدا کیا اہلِ بیت کے لئے خاص پردے کا حکم دیا اور یہ کم نا انصافی پر بنی نہیں تھا بلکہ فطرت اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق تھا کہ جہاں تک ہو سکے تم گھروں کے اندر ٹھہری رہو اور بے ضرورت باہر نہ نکلو۔اور اگر نکلنا پڑے تو اپنے آپ کو پوری طرح 9