بے پردگی کے خلاف جہاد

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 29

بے پردگی کے خلاف جہاد — Page 8

خاندان کے دوسرے افراد جو پارٹیشن سے پہلے تک قادیان میں پیدا ہوئے اور اس مبارک ماحول میں انہوں نے پرورش پائی۔ان کو دیکھا ان کی ساری عورتیں برقعوں میں ملبوس ہوتی تھیں۔دُنیا کی دلچسپیوں میں آزادی سے حصہ لینے سے ان کو نہیں روکا گیا۔وہ شکار پر بھی جاتی تھیں۔کھیل کود اور سیر و تفریح میں بھی حصہ لیا کرتی تھیں۔تعلیم بھی اعلیٰ سے اعلیٰ حاصل کرتی تھیں۔یہ سارے کام وہ برقع کی پابندی کے ساتھ کرتی تھیں۔اگر ان کے بچے اور بچیاں اس دور میں یہ دیکھیں کہ ان کی ماؤں نے چادریں لے لی ہیں اور چادروں کی شکل یہ بن گئی ہے کہ اپنوں کے سامنے وہ زیادہ شدت کے ساتھ لپیٹی جاتی ہیں اور غیروں میں جا کر چادر میں ڈھلک جاتی ہیں اور کندھوں پر جا پڑتی ہیں، تو یہ نہ سمجھیں کہ یہ اسلامی پردہ ہے۔کون اسے اسلامی پردہ کہہ سکتا ہے۔تقویٰ سے کام لینا چاہئے۔آپ اعتراض کی زبانیں بے شک کھولیں۔مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔لیکن میں اس مقام پر فائز کیا گیا ہوں کہ آپ کی نگرانی کروں۔اس لئے میں آپ پر خوب کھول کر یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم فرماتا ہے:- بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيْرَةٌ وَّلَوْ الْقَى مَعَاذِيْرَهُ (القيمة: ۱۵، ۱۶) تم لاکھ بہانے تراشو اور لاکھ غذر پیش کرو کہ ہم اسلامی پردے میں زیادہ شدت اختیار کر رہی ہیں اور یہ کہ اسلامی پردہ چادر ہی ہے، لیکن میں جانتا ہوں اور میرانفس جانتا ہے اور آپ کا نفس بھی جانتا ہے کہ وہ چادر جو آج بے پردگی کے لئے استعمال کی جا رہی ہے بہر حال اسلامی نہیں ہے۔اسلامی قدریں تو ڑی جارہی ہیں اور ان کو کوئی پرواہ نہیں کہ ان کی نسلوں کا کیا حال ہوگا ؟ ان کو پتہ نہیں کہ وہ ناچ گانوں میں مبتلا ہو جائیں 8