برطانوی پلان اور ایک فرضی کہانی — Page 10
1 زبردست انتیاه 17 فصل سلام 12 ملحوظ خاطر رہے کہ غذر ۱۸۵۷ء میں باغیوں کو کچلنے میں پنجاب کے ہزاروں مسلمان برطانوی حکومت کی سرپرستی میں پشتو انگلش ڈکشنری کی اشاعت سپاہیوں نے حصہ لیا اور فتح دہلی کے بعد انگریزی حکومت ایک فولادی قلعہ کی طرح پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی جو پہلی جنگ عظیم تک عروج وارتقاء کی آخری منازل تک پہنچ گئی اور اس کے لئے پنجاب کے ہزاروں مسلمان سپاہیوں اور ان کے مسلم کمانڈروں نے بیش بہا قربانیاں پیش کیں اور ان میں کوئی احمدی شامل نہیں تھا کیونکہ جماعت کی بنیاد ہی برسوں بعد مارچ ۱۸۸۹ء ہم افغانستان کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے ۱۸۸۰ تک امیر عبدالرحمن کی حکومت تک آگئے تھے (جس کے زمانہ میں شیخ عجم حضرت مولانا شہزادہ سید عبد اللطیف کی دردناک شہادت کا خونی واقعہ رونما ہوا) لیکن اب ہم ۶۲ ۱۸ء کی طرف واپس آتے ہوئے عرض ! میں رکھی گئی اور نہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا اس میں ذرہ برابر کوئی عمل دخل تھا کیونکہ آپ پرداز میں کہ امیر دوست محمد خان کی زندگی کے آخری ایام میں برطانوی حکومت نے ایشیا میں اسوقت قادیان کی گمنام بستی میں گوشہ نشین تھے اور آپ کے قیام سیا لکوٹ کا زمانہ تو مسلمہ طور پر پائیدار امن اور مذہبی آزادی میں فروغ اور برٹش انڈیا کی مادی ترقیات کے لئے اپنی گزشتہ ۱۸۶۴ء سے ۱۸۶۷ ء تک کا ہے۔اور اگر ایرانی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایک نئی سکیم تیار کی جس کا انکشاف ہیٹی کی رجمنٹ نمبر ۳ کے کیپٹن ایچ جی ریورٹی (CAPTAIN H۔G۔RAVERTY) کی کتاب ڈکشنری آف دی پختو پشتو ( DICTIONRY OF THE PUKHTO PUSHTO) سے ہوتا ہے جو برطانوی حکومت کی سرپرستی میں کئی سال میں تیار ہوئی اور جس کے مرتب کرنے میں برطانیہ اور ہندوستان کے تمام مشہور اداروں اور لائبریریوں اور عیسائی مشنوں نے بھر پور حصہ لیا جن میں ہندوستان کے مسلم رہنما نواب سالار جنگ، ہز ہائی نس نظام دکن میراکبر علی کینال آفیسر نہز مهد و پور ضلع گورداسپور بھی تھے۔یوں تو بنگال، مدراس ہمبئی اور پنجاب کے برطانوی افسر اس ، میں شامل ہوئے مگر پشاور، ہزارہ، مردان، کوہاٹ ، ڈیرہ اسماعیل خان نے سرگرم حصہ لیا۔لغت کی تیاری میں وسط افغانستان کے غلزئی قبیلہ کے ایک عالم دین نے جن کے والد کسی وقت قاضی قندھار رہے تھے، بھر پور حصہ لیا اسی طرح ضلع پشاور میں آباد محمد زئی قبیلہ کے ایک قدیم اخوند زادہ اور پشتو زبان میں یکتائے روزگار بزرگ نے بھی اپنی شب و روز کی مساعی اس کی تکمیل کے لئے وقف کر دیں۔اس طرح انگریز مؤلف اور ان فاضل علماء دین کی مساعی سے