برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 169

برکاتِ خلافت — Page 87

برکات خلافت 87 80 ہے نہ تو خدا تعالیٰ کو اس کی ضرورت ہے اور نہ وہ اپنی بیعت پر قائم ہی رہتا ہے اور نہ اپنے چال چلن کی اصلاح کرتا ہے اور اگر بیعت پر قائم بھی رہے تو احمدیوں کے لئے ابتلاء کا موجب ہوتا ہے ایسے واقعات کئی ہوئے ہیں مگر ان کا نتیجہ ہمیشہ خراب ہی ہوتا ہے کبھی دین کے لحاظ سے کبھی دنیا کے لحاظ سے۔الا ماشاء اللہ۔اکثر نکاح کے بعد خاوند اپنی بیویوں کو دکھ دینے شروع کر دیتے ہیں اور اپنے عقائد کے چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ نماز پڑھنے یا قرآن کریم کی تلاوت کرنے سے بھی روکتے ہیں۔چند سال ہوئے میں نے ایک شخص کی نسبت سنا کہ اس نے اپنی لڑکی کسی ایسے شخص سے بیاہ دی جو اس رشتہ کی خاطر بیعت میں داخل ہوا تھا۔جب لڑکی اپنے سسرال میں گئی تو انہوں نے اسے طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کر دیا۔اگر وہ نماز پڑھتی تو کہتے کہ یہ ٹونے کرتی ہے اور اگر قرآن پڑھتی تو کہتے کہ ہم پر جادو کرتی ہے۔وہ بیچاری نہ نماز پڑھ سکے اور نہ قرآن۔وہ شخص روتا پھرے کہ اب میں کیا کروں؟ مگر کوئی اسے کیا مدد دے سکتا تھا اپنے عمل کی سزا تھی جو اسے پہنچ رہی تھی۔ایک اور نے لکھا کہ میں نے اپنی لڑکی کا نکاح ایک غیر احمدی سے کیا تھا اب وہ کہتا ہے کہ نہ میں اسے چھوڑتا ہوں اور نہ رکھتا ہوں یوں ہی تنگ کروں گا اور تمہیں دکھ پہنچاؤں گا۔غرض کہ غیر احمدیوں کو لڑکی دینے والے کبھی سکھ اور آرام نہیں پاسکتے بلکہ اس طرح وہ اپنی لڑکی کے دین کو خراب کر دیتے ہیں جس کا وبال ضرور انہیں پر ہوگا۔اور خود دکھ اور تکلیف میں جلتے رہتے ہیں پس جو شخص بھی دین دار ہو کر اپنی لڑکی دنیا دار کو دیتا ہے وہ کبھی آرام میں نہیں رہ سکتا۔اور نہ ہی اس کی لڑکی آرام میں رہ سکتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر کوئی اپنی لڑکی کسی