برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 169

برکاتِ خلافت — Page 135

برکات خلافت 135 انہیں ان سے حالات معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بادشاہ نہیں جانتا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے۔مثلاً ہمارے بادشاہ کو انگلستان میں بیٹھے ہوئے خود بخود کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں کیا ہورہا ہے اس لئے حالات معلوم کرنے کے لئے وائسراے مقرر کیا گیا ہے۔پھر وائسرائے کو خود بخود کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ سارے ہندوستان کے شمال و جنوب مشرق و مغرب میں کیا کچھ ہو رہا ہے اس لئے لیفٹنٹ گورنر مقرر کئے گئے۔پھر لیفٹنٹ گورنروں کو سارے صوبہ کا کیا حال معلوم ہوسکتا ہے۔اس لئے ڈپٹی کمشنر مقرر کئے گئے ہیں۔اسی طرح ڈپٹی کمشنروں کو حالات معلوم کرانے کے لئے تحصیلدار ، نائب تحصیلدار نمبر دار ، پٹواری اور چوکیدار رکھے گئے ہیں۔اور اس طرح تمام سلطنت کی خبریں اور راز بادشاہ تک پہنچتے ہیں ورنہ انہیں خود بخود معلوم نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اللہ تو تمہاری اگلی پچھلی ساری باتیں جانتا ہے پھر اس کو در باری رکھنے کی کیا ضرورت ہے يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ کے دو معنی ہیں (۱) اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس کو جو آگے ہونا ہے اور جو کچھ تم پیچھے کر چکے ہو۔(۲) اللہ جانتا ہے ان کو جو کام تم نے کئے ہیں اور جو نیک کام کرنے چاہئیں تھے لیکن انہیں ترک کر دیا ہے۔پھر اس کو کیا ضرورت ہے کہ درباری رکھے۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ : اور اس کے علم کو کوئی کہاں پہنچ سکتا ہے۔کسی کو اس کی حقیقت اپنی کوشش سے معلوم نہیں ہوسکتی ہاں جس کو وہ آپ ہی بتا دے اور جس قدر بتادے وہ اتنا جانتا ہے۔وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ: اور تمام آسمانوں اور زمین پر اس