برکاتِ خلافت — Page 100
برکات خلافت 100 کے زمانہ میں ایک بادشاہ مسلمان ہو کر آیا تھا۔کعبہ کا طواف کرتے وقت کسی صحابی کے پاؤں کے نیچے اس کا کپڑا آ کر گر گیا۔اس نے اس کو تھپڑ مارا کسی نے اس سے کہا کہ حضرت عمرہ تجھ سے اس کا بدلہ لیں گے۔اس نے کہا کیا مجھے غستان کے بادشاہ سے اس مفلس کے مارنے کا بدلہ لیں گے؟ اور کیا مجھے بھی نہیں چھوڑیں گے؟ اس نے کہا نہیں اس کو جو زیادہ شک ہوا تو جا کر حضرت عمرؓ کو کہنے لگا کہ کیا اگر کوئی بڑا آدمی کسی رذیل کو مارے تو آپ اس کا بدلہ تو نہیں لیں گے؟ انہوں نے کہا اوجلہ تو کسی کو مار تو نہیں بیٹھا اگر تم نے کسی کو مارا ہے تو خدا کی قسم میں ضرور تم سے اس کا بدلہ لوں گا یہ سن کر رات کو وہ بھاگ گیا اور اس کی تمام قوم عیسائی ہو گئی۔حضرت عمرؓ نے فرمایا اس کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہے۔تو حقوق کے لحاظ سے سب مسلمان برابر ہیں مگر شادی میں صرف اسی بات کا خیال نہیں رکھنا بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ جن دو شخصوں کا پیوند ساری عمر کے لئے ہونے لگا ہے ان میں آپس میں اخلاق کا کوئی فرق تو نہیں اور بعض اقوام کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں پس ان سے ضرور علیحدہ رہنا پڑے گا تا کہ ہمیشہ کا جھگڑا نہ پیدا ہو جائے لڑکے لڑکی کے امن اور آرام کی وجہ سے ایک حد تک کفو کا خیال بھی رکھنا پڑے گا۔لیکن جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ہر ایک چیز کی حد ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ آنفكُمْ فرما کر یہ قاعدہ بتادیا ہے کہ اصل شرافت تقوی ہی ہے۔پس تم کبھی اس بات پر دلیری نہ کرو کہ فلاں قوم کمینی ہے تم بے شک بعض قوموں سے اختلاف اخلاق و عادات کی وجہ سے رشتہ میں پر ہیز کرو لیکن کسی کو وضیع نہ کہو کیونکہ جو آج شریف ہوتا ہے وہ حالات کے بدلنے سے وضیع ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور سارے ایک جیسے ہیں۔جس کے اخلاق