برکاتِ خلافت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 169

برکاتِ خلافت — Page 99

برکات خلافت 99 99 ود سے ان کے اخلاق میں جن نقائص کا خوف کیا جاتا تھا وہ خوف اب جاتا رہا ہے اسی طرح بعض ایسے پیشے ہیں کہ جو خود بداثر ڈالنے والے ہیں۔مثلاً موسیقی ہے یہ پیشہ بغیر گندے تعلقات کے خود ہی انسان کے دل پر برا اثر ڈالتا ہے اس لئے اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے رذیل خیال کئے جائیں گے۔پس شریف خاندانوں کی بنیاد بھی اصل میں نیکی تقوی اور اچھے اخلاق کی بناء پر ہی پڑی ہے۔کوئی بڑی قوم کسی نیک انسان کے تعلق سے بڑی بن گئی۔کوئی کسی بہادر کے تعلق سے، کوئی کسی سخی کے سبب سے کوئی کسی فاتح کے سبب سے اگر قوموں کی اصل پر غور کیا جائے تو ان کی شرافت کی بنیاد کسی نہ کسی زمانہ میں ان کے اخلاق حسنہ ہی ہوں گے اور چونکہ تعلقات کا اثر انسان کے اخلاق پر ضرور پڑتا ہے اس لئے شریف اقوام کا بھی لحاظ رکھنا ایک حد تک ضروری ہو جاتا ہے۔اور یہ ضروری بات ہے کہ اچھے اور برے عادات اور اخلاق کے معلوم کرنے کے لئے اقوام کو دیکھا جائے تاکہ بعد میں رنجش پیدا نہ ہو۔اخلاق اسی لئے دیکھے جاتے ہیں کہ نتیجہ نیک نکلے۔اگر کسی کو اپنے اخلاق اور عادات کے مطابق کوئی لڑ کا مل جائے خواہ وہ کسی قوم سے ہو تو اس سے رشتہ کر دینا چاہئے۔جو آج وضیع سمجھا جاتا ہے وہ کل شریف ہوسکتا ہے۔ایک شخص اگر ادنیٰ حیثیت سے مثلاً چوڑھے سے مسلمان ہو تو میں اسی وقت اس کے ساتھ مل کر کھانا کھالوں گا اور میں اس کا جوٹھا کھا سکتا ہوں اور وہ میرا جوٹھا کھا سکتا ہے۔کیونکہ جب اس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہا تو میرے اور اس میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔اسلام کے لحاظ سے جو میرے حقوق ہیں وہی اس کے ہیں۔اس میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں ہے۔حضرت عمر